میرا بچپن

 مکتب عشق کے انداز نرالے دیکھے

اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا 

آج ممبئی کی موسلادھار بارش نے موسم کو بہت خوش گوار بنا دیا اور اچانک بہت سی بچپن کی یادیں تازہ ہونے لگی۔میرا ذہن لاشعوری طور پر ماضی کی خوبصورت یادوں میں کھو گیا یہ 1996کی بات ہے جب میرا اول جماعت میں داخلہ ہوا اور با قاعدہ تعلیمی میدان میں اترنے کا وقت آیا ۔

ممبئی کی موسلادھار بارشوں میں اسکول جانے کا لطف ہی الگ ہے میرے لیے چھتری ،رین کوٹ ، بستے اور یونیفارم کا انتظام کیا گیا۔

جماعت اول میں داخلہ کے بعد سب سے پہلے میری بہترین ساتھی بنی میری بال بھارتی ۔



بال بھارتی ہمیں سب سے زیادہ عزیز تھی ۔اسے سنبھال کر رکھنا ،اس پر کور چڑھانا،گھنٹوں بیٹھ کر اس کی تصویریں دیکھنا ،دن بھر اس کی نظموں کو دہرانا ہمارا مشغلہ بن گیا۔

کبھی تیتر اور بٹیر کو غور سے دیکھنا یا پھر خرگوش اور کچھوے کی ریس میں تماشائی بن کر ہار جیت کا مزہ لینا،کبھی کالو موچی کے جوتے بھول آنے پر خوب ہنسنا اور کبھی چڑیا کی نظم یاد کرکے گھر میں آکر امی کو سنانا اور اپنے ساتھیوں کو یاد کرانا ۔سب بچپن کی یادیں تازہ ہوگئی ۔بچپن گزر گیا ۔ساتھی بھی بچھڑ گئے مگر بال بھارتی کو ہم نہیں بھولے اور بال بھارتی بھی ھمیں نہیں بھولی۔

سوشل میڈیا آیا اور فیس بُک پر اچانک بال بھارتی گروپ سامنے آگیا یوں لگا پرانی یادیں تازہ ہونے لگی اور ایسا لگا پھر سے بچپن لوٹ آیا ۔

No comments:

Post a Comment