Ramzan

 سورج اپنی رعنائیوں اور تپش کو اپنے اندر لیے رخصت ہونے کو تھا اور ماحول میں غروبِ آفتاب کے نظارے دکھائی دے رہے تھے سڑک پر ہوا کے تیز تھپیڑوں نے لطیف اور نرم جھونکوں کا روپ دھار لیا تھا 

انسانی زندگیوں میں بھی تبدیلیاں واقع ہو رہی تھیں تیز رفتار زندگی اب شام ہونے کے بعد آہستہ آہستہ چل رہی تھی 

راہوں کے مسافر اب صرف اس انتظار میں تھے کہ وہ جلد از اپنی منزل مقصود پر  عافیت سے پہنچ جایئں 

گلی کوچوں کی مصروفیات میں نمایاں تبدیلی دکھائی دے رہی تھی مرد حضرات جلد از جلد اپنے کاروبار اور ضروریات زندگی سے فراغت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور گھروں کی خواتین کی باورچی خانے کی مصروفیات میں بڑھ گئ تھیں ساتھ ہی ساتھ اگلے دن کا لاء حہ عمل بھی دماغ میں تھا 

باہر کھڑکی کے دریچوں سے کبھی روشنی دکھائی دیتی تو کبھی پٹاخے پھوڑنے 


کی آواز سنائی دیتی ہے  ۔

کچھ دور اور آگے بڑھنے پر ایک چوراہے پر نظر پڑتی ہے وہاں کچھ لوگ جمع ہیں اور آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں

پھر ایک شور اٹھتا ہے 

چاند مبارک 

ماحول میں خوشیاں ہی خوشیاں ہیں۔چھوٹا بڑا امیر غریب مرد عورت بچہ بوڑھا تندرست لاغر غرضیکہ ہر ایک کے چہرے پر مسکراہٹ ہے اور کیوں نہ ہو رمضان المبارک کا چاند جو نظر آگیا 

ماہ رمضان اپنی تمام تر برکتوں رحمتوں کے ساتھ جلوہ افروز ہونے والا ہے چاند کے دکھنے کے بعد مساجد میں تراویح کا اہتمام پھر رات کو جلدی سوکر سحری میں اٹھنا اور اور پھر غروبِ آفتاب کےبعد افطاری 

ساتھ ہی روز مرہ کے معمولات زندگی میں عبادت کو ترجیح دینا  اللہ رب العزت قرب حاصل کرنا نماز پنجگانہ ادا کرنا اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتے رہنا اور اپنے اعمال سے اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کرنا یہی ہر مسلمان کا نصب العین بن جاتا ہے اور جب بندہ اپنی چاہتوں کو اللہ رب العزت کی رضامندی کے لیے قربان کرتا ہے تو رحمت الہٰی کو بھی جوش آتا ہے اور پھرغفور رحیم کی طرف سے مغفرت کا پروانہ جاری کر دیا جاتا ہے ایک کا ستر دیا جاتا ہے ایسی رات دی جاتی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے اوراللہ تعالیٰ اس کمزور بندے اور بندی کا نام عرش پر فرشتوں کے

 سامنے لیتا  ہے۔پھر جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کی آگ اس بدن پر حرام کردی جاتی ہے جس نے اپنی پر خلوص عبادتوں اور مجاہدوں اور تقویٰ کی راہ پر چل کر سے اپنے رب کو راضی کر لیا۔ 

No comments:

Post a Comment