سنہرا دور

 السلام و علیکم ۔

ایک سنہرا دور ہمارے آباؤ اجداد نے دیکھا ہے جب امن وسکون کا دور دورہ تھا۔لوگ درختوں کی چھاؤں میں پتھر پر سر رکھ کر گہری نیند سو جاتے تھے ۔صبح سے رات تک حلال روزی کے لیے کوشاں رہتے تھے شام میں گھر وں میں مل جل کر بیٹھنے کا رواج عام تھا۔کسی کو کسی کا ڈر نہ تھا۔

مگر جدید زمانے نے جہاں بہت سی سہولتیں فراہم کی ہیں اسی کے ساتھ انسانی سکون درہم برہم کر دیاہے۔

سوشل میڈیا نے سونے پر سہاگہ کا کام کیا۔ہر شخص تمام آساءشوں کے باوجود بھی پریشان ہے  ۔

آج کا نوجوان طبقہ بے شمار نعمتوں اور آساءیشوں کے باوجود احساس کمتری کا شکار  ہو کر اپنی ہنستی کھیلتی زندگی کو خود اپنے ہاتھ سے برباد کر رہا ہے اوراپنی ناکامی کاالزام سوشل میڈیا کو دیتا ہے 



اس حالت زار کا ذمہ دار سوشل میڈیا نہیں ہے۔اپنی بربادی کے ذمہ دار ہم خود ہیں ۔ہم نے سو شل میڈیا کا غلط استعمال کیا۔فضول کاموں میں اپنا وقت ضائع کیا نتیجہ ہمارے سامنے ہے ۔

اب بھی وقت ہے ہمیں چاہیے کہ ہم پھر سے ایک بار ہمت کرکے اٹھ کھڑے ہوں ۔کچھ نیا سیکھیں تاکہ وقت ضایع نہ ہو اور ہر میدان میں کامیابی حاصل کریں 

وہ اندھیرا ہی بھلا تھا کہ قدم راہ پہ تھے

روشنی کھینچ لاءی ہے منزل سےبہت دور مجھے

No comments:

Post a Comment