کیا آپ کو گرمیوں کی چھٹیاں پسند ہیں ؟یقینا آپ میں سے ہر ایک کا جواب یہی ہوگا کہ ہاں ۔ ہم نے بچپن میں بارہا موسم گرما کی تعطیلات کا شدت سے انتظار کیا ہے
زمانہ طالب علمی کی ایک بہترین یاد ہے موسم گرما کی تعطیلات
سال بھر کی پڑھائی اور امتحان کے نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان بھی اسکول کی سرگرمیوں کا حصہ ہوتا تھا
آج موسم گرما کی چلچلاتی دھوپ میں مجھے دور یاد آگیا جب سالانہ امتحانات کے بعد ہم پوری توجہ و تیاری کے ساتھ گرمیوں کی چھٹیوں کو انجوائے کیا کرتے تھے
سب سے پہلے بستے کو اٹھا کر رکھ دیا جاتا پرانی کتابوں کو ردی میں اس طرح بیچ دیا جاتا جیسے کبھی دوبارہ دیکھنے کی ضرورت ہے نہیں اور آج ایسا دور آگیا کہ ہم ان پرانی کتابوں کو منہ مانگے دام میں خریدنے کے لئے رضامند ہیں مگر باوجود تلاش و بسیار کے وہ کتابیں ہماری دسترس میں نہیں آ سکیں
گرمیوں کی چھٹیوں میں بچوں کو جہاں کھیلنے کودنے کا فارغ وقت ہوتا تھا وہیں اپنے آبائی وطن جاکر وہاں کے قدرتی ماحول سے لطف اندوز ہونے کا پورا موقع مل جاتا تھا
بچپن میں گرمیوں کی تعطیلات بہت سی خوشیاں اپنے ساتھ لاتی تھیں اور جاتے جاتے ایک ماضی کا ایک خوبصورت حصہ ہمارے ذہن میں چھوڑ جاتی تھیں
برصغیر ایشیا میں موسم گرما کا آغاز مارچ سے شروع ہو کر جون میں اختتام پذیر ہوتا ہے اور اپریل اور مئی میں گرمیاں اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہیں گرم گرم لو کے تھپیڑوں سے ہر ایک پریشان ہو جاتا ہے اور چلچلاتی دھوپ اور سورج کی تمازت سے تپتی سڑک انسان اور جانور سب کو نڈھال کر دیتی ہے
گرمیوں میں جہاں سورج کی حدت سے انسانی زندگی پریشان ہو جاتی ہے وہیں یہ گرمیاں کسی نعمت سے کم بھی جس طرح ہر چیز کے کچھ فائدے اور کچھ نقصان ہوتے ہیں اسی طرح گرمیوں میں جہاں شدت کی گرمی سے ہر ایک ہراساں ہو جاتا ہے وہیں گرمیوں کی سخت دھوپ کسانوں کی فصلوں کے لیے بہت مفید ثابت ہوتی ہیں
گرمیوں کا ذکر آم کے بغیر ادھورا رہ جاتا جاتا ہے گرمیوں میں کچے اور پکے ہوئے آموں کی آمد ایک خوشگوار احساس ساتھ لاتی ہے آموں کے اچار چٹنی اور مربے ہر گھر کی زینت بن جاتے ہیں بر سہا برس سے لوگوں نے آموں کو پسند کیا ہے اور گرمیوں کا انتظار کر کے آموں کی پیداوار میں خاطرخواہ اضافہ کیا ہے یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے آم آج پوری دنیا میں مقبول ہیں
گرمیوں میں برف کے گولے اورآئسکریم کھانے کا ہر ایک کو شوق ہوتا ہے ٹھنڈے ٹھنڈے شربت سے ہر ایک لطف اندوز ہوتا ہے بچپن میں ان ہی برف کے گولے آئسکریم اور شربت بیچنے والوں کے گرد ہم بچوں کی ایک بھیڑ ہوتی تھی
میں نے بھی بچپن کی گرمیوں کا بھرپور لطف اٹھایا ہے کبھی پکنک منانے کا پلان بنایا جاتا تو کبھی گلی کوچوں میں کھیلنے کا اور کبھی بچوں کے ماہنامہ میگزین کا مطالعہ کرنے کا
اکثر اوقات فراغت کا وقت میسر ہونے کی وجہ سے کسی کے گھر ملاقات کے لیے جانے اور ان سے میل جول کا بھی موقع ملا کرتا تھا جو آج کے دور میں بالکل مفقود ہے لوگ مہمان نوازی اور میزبانی کے لفظ سے ناآشنا ہوتے جارہے ہیں جبکہ پرانی یادوں میں چھٹیوں میں لوگوں ایک دوسرے کو دعوت دینے میں اپنی خوش قسمتی سمجھتے تھے
بہت سے گھروں میں موسم گرما کی تعطیلات کو ایک با مقصد طریقہ سے گزارنے کا فیصلہ ہوتا تھا والدین اپنے بچوں کو ٹریننگ دیا کرتے تھے وہ تعلیم کے ساتھ ہی مختلف صلاحیتوں میں اضافہ کی کوشش کرتے تھے چونکہ بچوں کو اسکول کی تعطیلات کی وجہ سے فارغ وقت میسر ہوتا تھا اس لیے وہ اپنے والدین رشتے داروں اور پڑوسیوں کے ساتھ بہت سے مفید باتیں بآسانی سیکھ جاتے تھے اسی وجہ سے ان کے اندر بہت سی عمدہ صلاحیتیں پروان چڑھتی تھیں
لڑکیوں کو خاص طورپر امور خانہ داری کی تعلیم دی جاتی تھی اور ان چھٹیوں میں نو عمر لڑکیاں سلاءی کڑھائی پکوان اور کشیدہ کاری میں اچھی خاصی ماہر ہو جاتی تھیں
آج کے اس دور میں ہمیں یہ خیال ہی نہیں کہ ہم نے بچپن میں گرمیوں کی چھٹیوں کو کس طرح گزارا تھا کتنا فائدہ اٹھا یا تھا
موبائل کمپیوٹر اور سوشل میڈیا کے بغیر ہم مکمل تھے آگے بڑھتے تھے پڑھائی کرتے تھے وقت کا بہترین استعمال کرتے تھے اورترقی کرتے تھے
آج موبائل کمپیوٹر اور سوشل میڈیا کے ہوتے ہوئے ہم اندر سے پورے خالی ہیں
تعلیم سے محروم ہیں ترقی سے دور ہیں اپنی قدرتی صلاحیتوں کو خود اپنے ہاتھوں سے برباد کر رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے بڑی کامیابی حاصل کرلی
ذرا غور کریں کیا آپ بچپن میں کامیاب انسان تھے یا اب ؟
کیا آپ نے بچپن میں وقت ضایع کیا یا اب ؟
کیا آپ نے بچپن میں محتاج بن نے کر زندگی بسر کی یا اب موبائل کے محتاج ہیں؟
آج ہم دن بھر ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے رہتے ہیں ٹھنڈا پانی پیتے ہیں اس لیے ہمیں احساس ہی نہیں کہ پرانے وقتوں میں لوگوں نے کس طرح گرمیوں کے دن صبر و تحمل سے گزارے ہیں
بے شک پرانے وقتوں میں گرمیوں کی سختی بہت تھی مگر انسانی زندگی اتنی ہی زیادہ سرگرم اور فعال بھی تھی
زینت کوثر ۔











No comments:
Post a Comment